سیلینیم۔ Selenium
تحریر و ترتیب : ڈاکٹر سیّد حفیظ الرحمٰن
طویل بیماریوں ، کثرت جماع،مشت زنی ، رطوبات زندگی کے ضیاع سے ، دھوپ میں محنت مشقت یا لو لگنے وغیرہ کے بعد سےشدید تھکن، کمزوری اورنقاہت، جو آرام کرنے سے بھی دور نہ ہو۔
ذرا سی محنت مشقت سے ہی مریض تھک کر چور ہو جاتا ہے۔
شکل و صورت سے ہی مریض نہائت کمزور اور لاغر دکھائی دیتا ہے۔چہرہ سوکھا سڑا، اسپر جھریاں پڑی ہوئیں چکنائی زدہ ، ہاتھوں اور رانوں میں نمایاں لاغری اور گنجا پن نمایاں نظر آنے والی علامات ہیں۔
سیلینیم میں سارے جسم کے بال گرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں ۔ پلکیں بھنویں ، اعضائے تناسلی اور سرکے بال گر جاتے ہیں ۔ چمکدار ٹنڈ نکل آتی ہے۔
کان میل سے اٹ جاتے ہیں اور سماعت کمزور ہوجاتی ہے ۔
آلات صوت(ووکل کارڈ) کمزور۔ دھوپ میں پھرنے یا آواز کے زیادہ استعمال سے آواز بیٹھ جاتی ہے ۔ نرخرے میں سفید سی بلغم بکثرت پیدا ہوتی ہے ، مریض کو بار بار کھنکار کر گلا صاف کرنا پڑتا ہے۔ چھاتی میں نمایاں طور پر کمزوری کا احساس رہتا ہے ۔
صبح کے وقت خشک سی کھانسی آتی ہے شدید قبض رہتی ہے، پاخانہ سخت ، بمشکل خارج ہوتا ہے ۔
مثانہ کمزور ، چلتے پھرتے پیشاب کے قطرے ٹپکتے ہیں ، یا پیشاب کر چکنے کے بعد، واش روم سے نکل آنے پر پھر پیشاب کے قطرے نکل جاتے ہیں ، پیشاب پاخانے پر زور لگانے پر ، یا ویسے ہی پیشاب پاخانے کے بعد پراسٹیٹ کی لیسدار رطوبت رستی ہے ۔
مریض جنسی حوالے سے بھی شدید کمزوری کا شکار ہوتا ہے ۔ اسے شہوانی خیالات تو بہت آتے ہیں لیکن وہ عملاً بالکل ناکارہ ہو جاتا ہے ، ایستادگی ہی نہیں ہوتی یا نامکمل رہتی ہے ، آلہ تناسل ڈھیلا ڈھالا، بکثرت احتلام ۔ شدید حالتوں میں خواہش جماع بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ریڑھ کی ہڈی خصوصاً چھوٹی کمرمیں میں نمایاں کمزور ی اور درد ، خصوصاً صبح بستر سے اٹھنے پر ، گردن میں سختی۔
کرسی یا بستر سے اٹھتے وقت چکر آتے ہیں ، بسا اوقات اسکے ساتھ متلی ، قے اور غشی آتی ہے ، کھانے پینے کے بعد یہ تکلیف بڑہتی ہے ۔
تیز دھوپ میں پھرنے سے بائیں آنکھ کے ٹھیک اوپر ڈنک لگنے کی طرح کا سخت درد ہوتا ہے۔
ذہنی تکان اور اعصابی کمزوری ، صبح بستر سے نکلنے کو جی ہی نہیں چاہتا ، دماغی صلاحیتیں کمزور پڑجاتی ہیں ، روز مرہ کے کاموں میں بھول چوک ، پڑہا ، سنا ، یاد نہیں رہتا ، پڑہنے لکھنے ، اور دیگر دماغی کام کاج سے بری طرح تھک جاتا ہے ۔
احتلام اور جماع کے بعد بھی دماغی اور اعصابی کمزوری میں شدت محسوس ہوتی ہے ، مریض چڑ چڑا ہوجاتا ہے ۔ اسکا کام کرنے کو دل چاہتا ہے نہ کسی سے ملنے جلنے کو ، حتٰی کہ کسی قریبی دوست سے بھی ملنا نہیں چاہتا۔
آدھی رات تک تو نیند آتی نہیں بعد میں نیند آتی ہے تو بار بار آنکھ کھلتی رہتی ہے اور پھر علی الصبح ٹھیک ایک مخصوص ٹائم پر جاگ جاتا ہے ۔ظاہر ہے کہ جاگنے پر اسکی بری حالت ہوتی ہے ، بستر چھوڑنے کو جی نہیں
چاہتا ، تھکاوٹ ، کمزوری اور کمر درد۔
برانڈی جیسی تیز چیز پینے کی خواہش ۔
ذرا سی محنت پر پسینہ جو کہ بدبو دار ہوتاہے اور زرد داغ چھوڑتا ہے ۔
مریض کیا ہے ذہنی جسمانی اور اعصابی کمزوری کا چلتا پھرتا شاہکار ہے، ایسے مریضوں کے لیے سیلینیم اپنی مخصوس علامات کے تحت بڑی طاقتوں میں آب حیات سے کم نہیں ۔ لیکن محض کمزوری کے حوالے سے بیکار ثابت ہوتی ہے۔

Comments
Post a Comment