جنسی کمزوری اور اسکا سائنٹفک علاجtreatment of sexual weakness in homeopathy

https://article.pk/author/Syedsoraj1

https://heylink.me/dr._syed/ 

treatment of sexual weakness   in homeopathyجنسی کمزوری اور اسکا سائنٹفک علاج۔

تحریر و ترتیب -ـ ڈاکٹر سیّد حفیظ الرّحمان
میرے لیے بہت ہی قابل قدر ڈاکٹر جن کی تحریر سے میں ہمیشہ سیکھتا رہتا ہوں اور کچھ تحریر اپ کی نظر بھی کر رہا ہوں


پارٹ۔1
جنسی عمل ہماری زندگی کاایک اھم اور ضروری حصہ ہے کیونکہ قدرت نے افزائش نسل کیلیے جنسی عمل کے پرلطف طریقے کو ذریعہ بنایا ہے ۔
افزائش نسل کے علاوہ ،جنسی عمل میاں بیوی میں پیار ،محبت اور باھم مضبوط تعلق ،اعتبار اور اعتماد کا بھی ایک اھم ستون ہے ۔
جنسی کمزوری ایک ایسا عارضہ ہے جسکے جسمانی اور نفسیاتی اثرات بہت گہرے ہوتے ہیں، جو سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کرتے ہیں ۔
جنسی قوت اور صلاحیت کا اظہار بلوغت کے ساتھ ہی ہوتا ہے جبکہ جنسی ہارمونز فراوانی سے کثیر مقدار میں پیدا ہونے لگتے ہیں ۔
چالیس سال کی عمر میں طبعی طور پر ان میں کمی آنے لگتی ہے ۔ ساٹھ سال کی عمر میں یہ کمی نمایاں محسوس ہوتی ہے ۔ اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں ۔
لیکن آجکل یہ عارضہ عام ہے ، اور زیادہ تر نوجوان اس میں مبتلا ہیں۔ اس عارضے کے باعث ایسے نوجوان ذھنی اور نفسیاتی اذیت میں تو مبتلا رہتے ہی ہیں ، شادی کی صورت میں عدم اطمینان ،عدم اعتماد اور میاں بیوی میں احساس کمتری ،باھم شکوک و شبہات کے باعث نوبت لڑائی جھگڑے سے طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔
جنسی کمزوری ایک جامع اصطلاح ہے ،اس کا مطلب ہے کہ کسی فرد کا تسلی بخش طریقے سے جنسی عمل سر انجام دینے کے قابل نہ رھنا ۔
جنسی کمزوری کی کئی صورتیں ہیں ۔۔۔
جیسے ;
انتشار کی کمی یا مکمل فقدان۔
سرعت انزال یا انزال ہی نہ ہونا۔
خواھش جماع ہی ختم ہو جانا۔
مباشرت کے بعد شدید کمزوری ، موڈ کی خرابیاں اور کئی کئی دن تک طبیعت کا جنسی عمل کی طرف راغب ہی نہ ہونا یا قابل ہی نہ ہونا۔
مادہ تولیدمیں سپرمز کی کمی یافقدان بھی جنسی کمزوری کے ذیل میں ہی آتا ہے ۔
جنسی کمزوری کے جسمانی ،ذھنی اور نفسیاتی متعدد اسباب ہیں ۔ ان پہ سیر حاصل بحث کیلیے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے ۔ اس لیے میں صرف چیدہ چیدہ اھم نکات پر ہی روشنی ڈالوں گا۔
آجکل نوجوانوں میں جنسی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ قبل از وقت جنسی ہیجان ہے ۔ جدید میڈیا نے ہماری سماجی زندگی میں ، جنسی اشتعال کا بے حد اضافہ کیا ہے۔
شعور کی کمی اور تعلیم و تربیت کے فقدان اور ھیجان خیزی کے باعث نوجوان یہ تمیز اور ضبط کھو بیٹھے ہیں کہ انہیں اپنی اس جنسی قوت کا استعمال ، کب کہاں اور کیسے کرنا ہے۔
اب نوجوانوں میں ،،بلوغت ،، کی صورتحال کچھ ایسی ہی ہے جیسے بندر کے ہاتھ ماچس کی ڈبیہ آجائے ۔
انکے نزدیک ،، جنسی تسکین ،، کا حصول پاگل پن کی حد تک بڑھ گیا ہے ۔ مشت زنی ، اغلام بازی ،سیکس ٹوائز کے استعمال سے لیکر چھوٹے چھوٹے بچوں اور بچیوں سے جنسی زیادتی تک یہی بے لگام جنسی ہیجان کار فرما ہے ۔
یہ ھیجان ہر دوجنسوں میں موجود ہے ۔ جہاں باھم رضامندی سے کام نہیں چلتا وہاں دھونس سے کام چلایا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں جنسی جرائم بڑھتے جارہے ہیں ۔ تنگ آکر مغربی دنیا نے جنسی عمل پہ قانونی ہی نہیں سماجی پابندیاں بھی ھٹا لی ہیں ۔
طبی نقطہ نظر سے جب ناپختہ جنسی اعضاء اور ان سے متعلق اعصاب ،غدد اور دوران خون کے نیٹ ورک پر بوجھ بڑھتا ہے تو انکی افزائش و تکمیل میں کمی رہ جاتی ہے جو کہ جنسی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔
جنسی ھیجان انگیز خیالات ، جنس مخالف پہ بری نظر ڈالنے ،مشت زنی اور سیکس ٹوائز وغیرہ کے استعمال میں چونکہ جنسی عمل کی ساری لذت خیالی اور تصوراتی ہوتی ہے ۔یعنی سارا جنسی عمل ذھنی سطح پہ ہی تکمیل پاتا ہے چنانچہ دوران خون کا رخ جنسی اعضاء کی نسبت دماغ و اعصاب کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔
چنانچہ ایسے افراد میں رفتہ رفتہ یہ خرابی پختہ ہو جاتی ہے ۔ وہ عام طور پر خود کو ،،فٹ،، سمجھتے ہیں، انہیں تنہائی میں انتشار بھی ٹھیک ٹھاک ہوتا ہے ،لیکن جیسے ہی کسی پارٹنر سے عملی جماع کرنا چاھتے ہیں ،،ٹھس،، ہوجاتے ہیں ۔
بہت سے افراد کو تو جماع کی کوشش پر ،بوس و کنار یا دخول کے ساتھ ہی انزال ہو جاتا ہے تو بہت سے افراد کو انتشار ہی نہیں ہوتا ویسے ہی انزال ہو جاتا ہے ۔
اسکی وجہ انکا لچر پن ہے جسکے سبب بجائے اسکے کہ جنسی اعضاء کیطرف خون کا دوران بڑھے اور عضو تناسل میں فل تناؤ آئے ، الٹا دوران خون کا زور ،اوپر کی طرف ،یعنی انکے دماغ کی طرف ہوتا ہے ۔اور دماغ میں ہی تصوراتی جنسی عمل بسرعت تمام مکمل ہوجاتا ہے ۔ اور وہ خود کو عملاً ناکارہ پاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے
ذرا صبر ۔۔۔۔۔۔۔۔ تفصیل سے درست علاج بھی بتایا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔


اب مجھ سے علاج کے لیے رابطہ کر سکتے ہیں ڈاکٹر سید سراج


03463105865

Comments